ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاویری مسئلہ پر تمام سیاسی جماعتوں میں غیر معمولی اتفاق؛ آج لیجسلیچر کے خصوصی اجلاس میں قرار داد کی منظوری متوقع

کاویری مسئلہ پر تمام سیاسی جماعتوں میں غیر معمولی اتفاق؛ آج لیجسلیچر کے خصوصی اجلاس میں قرار داد کی منظوری متوقع

Fri, 23 Sep 2016 10:22:56    S.O. News Service

بنگلورو۔23/ستمبر(ایس او نیوز) تملناڈو کو کاویری سے پانی فراہم کرنے سپریم کورٹ کے حکم کو نہ ماننے اپنے فیصلے کی قانونی مدافعت کیلئے ریاستی حکومت نے آج جمعہ کوریاستی لیجسلیچر کا خصوصی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ حکومت نے اپنے موقف کو قانونی حیثیت کا حامل بنانے کیلئے جہاں لیجسلیچر میں قرار داد منظور کرنے کا منصوبہ بنایا ہے وہیں ایوان میں یہ قرار داد بھی منظور کرنے کی تیاری کی جارہی ہے کہ کاویری بحران کی یکسوئی کیلئے مرکزی حکومت فوراً مداخلت کرے۔ تملناڈو کو پانی فراہم کرنے کیلئے سپریم کورٹ کی طرف سے بارہا جاری کئے جارہے احکامات کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے ریاستی حکومت نے ایوان میں ایک جملہ پر مشتمل قرار داد اتفاق رائے منظور کرنے کافیصلہ کیا ہے۔حکومت کے اس فیصلے کی بی جے پی، جنتادل (ایس) سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے بھرپور حمایت کا اعلان کیا اور کاویری مسئلے پر منظور کی جانے والی کسی بھی قرار داد کی تائید کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے تمام سیاسی جماعتوں میں کاویری مسئلے پر ہوئے اتفاق سے استفادہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی سرزنش سے اپنے آپ کو بچانے کی تیاری کرلی ہے۔ عدالت کو یہ باور کرانے کی بارہا کوشش کہ باوجود کہ کاویری طاس میں آنے والے آبی ذخیروں میں پانی کی سطح گھٹتی جارہی ہے۔ عدالت کی طرف سے یہی فیصلہ آرہا ہے کہ تملناڈو کو پانی فراہم کیا جائے۔حکومت نے یہ بھی باور کروایا کہ بنگلور، میسور اور منڈیا اضلاع کے عوام کو پینے کاپانی فراہم کرنا بھی دشوار ہوچکا ہے۔ لیکن عدالت نے اسے بھی نظر انداز کردیا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے 1992 میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ ایس بنگارپا نے تملناڈو کو کاویری کا پانی فراہم کرنے کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی حکم عدولی کی تھی۔ انہوں نے اس وقت ریاستی لیجسلیچر کا اجلاس طلب کرکے اتفاق رائے سے قرار داد منظور کی اور اس سلسلے میں ایک آرڈیننس بھی جاری کیا۔یہ الگ بات ہے کہ بعد میں سپریم کورٹ نے اس آرڈیننس کو کالعدم قرار دے دیا۔ اس دوران ریاستی حکومت نے کاویری مسئلے پر وزیراعظم نریندر مودی سے بارہا نمائندگی کے باوجود مداخلت سے ان کے انکار کو دیکھتے ہوئے اس معاملہ میں صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی سے رجوع کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ حالانکہ ریاستی بی جے پی نے وزیر اعلیٰ سدرامیا کے اس اقدام پر اعتراض کیا ہے، لیکن وزیر اعظم کی طرف سے بارہا مداخلت کی گذارش کو مسترد کرنے کے بعد اب حکومت کے پاس صدر ہند سے رجوع ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ گیا ہے۔وزیراعلیٰ سدرامیا نے خود وزیراعظم کے رویہ پر مایوسی ظاہر کی ہے اور ریاست میں پانی کی قلت سے صدر ہند کو آگاہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ صدر ہند کو یہ باور کرانے کی تیاری میں ہیں کہ کسی بھی حال میں تملناڈو کو پانی فراہم کرنا ممکن نہیں ہے۔ وزیراعظم کی طرف سے دونوں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو طلب کرکے اس مسئلے پر میٹنگ کرانے کی بارہا گذارش کی گئی ہے۔ 


حکومت کے موقف پر ایس ایم کرشنا کی بھرپور تائید
 سینئر کانگریس لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ ایس ایم کرشنا نے کاویری مسئلہ میں وزیر اعلیٰ سدرامیا کے سخت موقف کی بھرپور تائید کا اعلان کیا اور کہاکہ موجودہ حالات میں سدرامیا نے جو فیصلہ کیا ہے وہ مناسب ترین ہے۔ آج اپنی رہائش گاہ پر وزیر اعلیٰ سدرامیا کی آمد کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کرشنا نے کہاکہ اس معاملے میں سدرامیا کے موقف پر وہ انہیں دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ سدرامیا حکومت نے مناسب وقت پر ٹھوس فیصلہ لیا ہے۔سپریم کورٹ کی طرف سے بار بار تملناڈو کو پانی فراہم کرنے کی ہدایت کی وجہ سے ریاستی عوام اور کسانوں میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوچکی تھی۔ ان حالات میں سدرامیا نے جو فیصلہ لیا ہے وہ وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایسے مرحلے میں جبکہ ریاست کے آبی ذخائر میں پانی موجود نہیں ہے تو تملناڈو کو پانی کہاں سے مہیا کرایا جائے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے جو فیصلہ سنایا گیا ہے کوئی بھی حکومت ہو اس پر عمل کرہی نہیں سکتی۔انہوں نے کہاکہ عدلیہ کااحترام لازم ضرور ہے، لیکن عدلیہ کا فیصلہ عوامی مفادات کے خلاف ہوتو اس پر عمل ممکن ہی نہیں۔ ریاستی حکومت نے عدلیہ کے احترام پر عوامی مفاد کو ترجیح دی ہے۔ کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنے سے ریاستی عوام مشکلات کا شکار ہوجاتے۔ ایسے مرحلے میں حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو نہ مان کر کچھ غلط نہیں کیا۔ وزیراعلیٰ سدرامیا کے اس فیصلے پر ریاست کی تمام سیاسی جماعتوں میں اتفاق کو انہوں نے ایک خوش آئند پہلو قرار دیا۔ بنگلور، منڈیا اور میسور اضلاع کے عوام کو پینے کا پانی مہیا کرانے حکومت کے اقدام کو انہوں نے کافی سراہا۔ ایس ایم کرشنا نے کہاکہ ریاست کے بیشتر علاقوں میں رعیت ہمیشہ مشکلات سے دوچار رہے ہیں۔ کاویری طاس میں خاص طور پر پچھلے چند سالوں سے کسان بارش کی کمی کی وجہ سے بھاری خسارہ کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کے خسارہ کی بھرپائی معاوضہ کی شکل میں ہونی چاہئے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کہاکہ تملناڈو کو پانی فراہم نہ کرنے کے متعلق کل جماعتی اجلاس اور خصوصی کابینہ میں جو کل فیصلہ لیا گیا اس سے آج انہوں نے ایس ایم کرشنا کو آگاہ کرایا اور سابق وزیراعلیٰ نے اس فیصلے کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔انہوں نے کہاکہ کل کے لیجسلیچر اجلاس میں حکومت کی طرف سے کاویری مسئلے پر جو قرار داد منظور کی جارہی ہے انہیں توقع ہے کہ تمام سے اس کو حمایت حاصل رہے گی۔اس موقع پر ریاستی وزراء ٹی بی جئے چندرا، ڈاکٹر ایچ سی مہادیوپا، ایچ ایس مہادیو پرساد، چیف وہپ اشوک پٹن، رکن کونسل کے گووند راج اور چیف سکریٹری اروند جادھوموجود تھے۔
 


Share: